روش ندیم

روش ندیم جدید نظم نگار، نقاد اور ماہر تعلیم کے طور پر پہچان رکھتے ہیں۔ وہ 15 فروری 1967 کو ساہیوال میں پیدا ہوئے لیکن بچپن ہی میں راولپنڈی کے ہور ہے۔ انہوں نے 90-1989 میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا شمار 90ء کی دہائی کے اُن جدید نظم نگاروں میں ہوتا  ہے جنہوں نے اپنے فنی تجربات اورفکری موضوعات کی بنا پر توجہ حاصل کی۔ انہوں نے منٹو کے فکشن پر پی ایچ ڈی کی ڈگری لی اور وہ درس و  تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ و چودہ سال انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے منسلک رہے اور آج کل راولپنڈی کے گریجوئٹ کالج میں بطور صدر شعبہ اور ڈین آف فیکلٹی کام کر رہے ہیں۔ ان کی تاریخ، نوآبادیات، ادبیات، تنقید، سماجی سیاسی تجزیات وغیرہ پر آٹھ سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جب کہ ان کی نظموں کے دو مجموعے ”ٹشوپیپر  پہ لکھی نظمیں‘‘ (2000) اور ’’دہشت کے موسم میں لکھی نظمیں‘‘ (2015) بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔جبکہ منٹو کی عورتیں (2010)، جدید ادبی تحریکوں کا زوال (2002)، فیض احمد فیض: فیض صدی منتخب مضامین (2012)، ابر کی آہٹ (1996)، پاکستان برطانوی غلامی سے امریکی غلامی تک (1993) اور تیسری دنیا کا فلسفہ انکار (1997) ان کی اہم کتابیں ہیں۔